نوشین کی آنکھیں لال ہو گئی تھی۔ وہ اب نشے میں تھی۔ اس نے پتے اٹھا لیے اور آخری بازی بٹ گئی۔ میں دل سے چاہ رہا تھا کہ نوشین ہار جائے تا کہ اس کی چوت کا بھی آج نظارا ہو جائے۔
اور میری چاہت رنگ لائی۔ سلیم جیت گیا اور نوشین ہار گئی۔ سلیم نے اب نوشین کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر اس کو سینٹر ٹیبل پہ لٹا دیا اور اس کے دونوں پیروں کے بیچ آ گیا۔ خوب پیار سے اس کی مخملی رانوں کو سہلایا اور پھر مجھے اور انور کو پاس آنے کا اشارا دیا آ جاؤ بھائی لوگو، اب نوشین کی چوت کا دیدار کرو۔
میں تو کب سے بے چین تھا اس پل کے لیے۔
ہم تینوں دوست میز کو گھیر کر کھڑے ہو گئے۔ نوشین اب تک مسکرا رہی تھی۔ سلیم نے نوشین کی پینٹی کے الاسٹک سے نیچے کی جانب فولڈ کرنا شروع کیا۔ دوسرے ہی فولڈ کے بعد نوشین کی جھانٹوں کی جھلک دکھائی دینے لگی۔ دھیرے دھیرے اس کی چوت کی جھلک بھی دکھائی دینے لگی۔
سلیم نے اس کے پیروں کو اوپر کی طرف کر کے پینٹی نیچے سے پیروں سے نکال دی اور پھر دھیرے دھیرے اس کی ٹانگوں کو تھوڑا سائیڈ کی طرف کھول دیا اور اب نوشین کی چوت کی پھانکیں ایکدم سامنے دکھ رہی تھیں۔ نوشین کی چوت پہ 2" لمبے بال تھے اور ان بڑی بڑی جھانٹوں کی وجہ سے اس کے چوت کی دانہ صاف نہیں دکھ رہا تھا۔
سلیم نے اس کی چوت پہ ہاتھ پھیرا اور پھر اس کی جھانٹوں کو ہٹا کر ہم دونوں کو اس کی چوت کے پورے نظارے کرائے۔
جب نوشین کی نظر مجھ سے ملی تب اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنا چہرا ڈھک لیا۔ پر اب مجھے اس کی شرم کی پرواہ نہیں تھی۔ ہم میں سے کسی کو بھی نہیں تھی۔
نوشین بولی بس اب مجھے چھوڑ دیجیے۔
پر سلیم نے اس کو یاد کرایا کہ ابھی تو ایک منٹ تک وہ اس کی چوت کو چوسے گا۔
اس کے بعد وہ نوشین کی چوت چوسنے میں لگ گیا، انور مٹھ مارنے لگا اور میں سب چیزیں سمیٹنے لگا۔ نوشین کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگی تھیں۔
نئی نئی جوانی چڑھی تھی بیچاری پہ، اس لیے وہ اتنا مزا پا کر شاید جھڑ گئی اور بولی اب بس، اب مجھے پیشاب آ رہا ہے۔
پر سلیم تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ نوشین نے دو تین بار اپنے بدن کو سلیم کی گرفت سے چھڑانا چاہا، پھر اسی میز پر ہی سلیم کے چہرے پہ سو سو کرنے لگی۔ سلیم نے اب اپنا چہرا ہٹا لیا۔
نوشین نے اپنا بدن ایکدم ڈھیلا چھوڑ دیا اور خوب پیشاب کیا، پھر پر سکون ہو گئی۔
دو منٹ ایسے ہی رہنے کے بعد اسے کچھ ہوش آیا اور تب وہ اٹھی اور پھر اپنے کپڑے اٹھا کر اپنے بیڈروم میں چلی گئی۔
ہم لوگوں نے بھی اپنے کپڑے پہن لیے۔
سلیم بولا اب تھوڑی دیر اس کو اکیلا چھوڑ ورنہ وہ رونے لگے گی، جب اس کو لگے گا کہ اس بے چاری کے ساتھ شراب کے نشے میں کیا کیا ہوا ہے۔
ہم لوگ اب پاس کی مارکیٹ کی طرف نکل گئے، نوشین تب باتھ روم میں تھی۔
چار دن آرام سے بیت گئے۔
نوشین کے ساتھ تاش کے بہانے ننگ پن کے کھیل کے بعد سلیم اور انور اس دوران گھر نہیں آئے، پر فون پر ہمیشہ مجھ سے پوچھا کہ میں نے اب تک نوشین کو چودا یا نہیں۔
مجھے اتنا ہونے کے بعد بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی نوشین سے سیکس کے لیے کہنے کی۔ نوشین بھی ایسے تھی جیسے اس دن کچھ ہوا ہی نا ہو۔
کھیر، جب سلیم نے الٹی میٹم دے دیا کہ اگر آج میں نے نوشین کو نہیں چودا تو وہ اسے پٹا کے میرے سامنے چودے گا تب مجھے بھی جوش آ گیا، اور شام میں ڈنر ٹیبل پر میں نے نوشین سے کہا، "نوشین، آج رات میرے ساتھ سو جاؤ نا پلیز، اس دن کے بعد سے مجھے بہت بے چینی ہو رہی ہے۔ "
یہ بات میں نے اپنا سر نیچے کر کے کھانا کھاتے ہوئے کہا۔
میری ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ میں نوشین سے نظریں ملاؤں۔
نوشین نے میرے جھجھک یا شرم کو سمجھ لیا اور پھر میرے پاس آ کر میرے سر کو اٹھایا اور کہا، "آج نہیں، دو تین دن بعد! "
اور میرے ہونٹ چوم لیے۔
مجھ میں اب ہمت آ گئی اور میں نے پوچھا، "آج کیوں نہیں، دو تین دن بعد کیوں؟"
اب نوشین مسکراتے ہوئے میرے کان کے پاس سرگوشی کرتے ہوئے بولی، "تھوڑا سمجھا کرو ندیم بھائی! ابھی پیریڈز چل رہے ہیں، اسی لیے کہہ رہی ہوں دو تین دن بعد۔ تب تک اس سے کھیلو! "
کہتے ہوئے اس نے اپنے پستانوں پر میرا ہاتھ رکھ دیا۔ میں خوش ہو گیا کہ چلو اب دو تین دن بعد نوشین جیسی ایک مست لونڈیا ملے گی چودنے کو۔
تیسرے دن جب میں آفس سے لوٹا تو نوشین ایکدم فریش لگ رہی تھی، مجھ سے بولی، "ندیم بھائی! آج کہیں باہر چلیے ڈنر کے لیے۔ "
وہ تیار تھی۔ قریب ایک گھنٹے بعد ہم لوگ ایک چائنیز ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔ وہ میرے ساتھ ایسے برتاؤ کر رہی تھی جیسے وہ میری گرل فرینڈ ہو۔ مجھے بھی مزا آ رہا تھا۔ قریب 9 بجے جب ہم لوٹ رہے تھے تب نوشین نے مجھ سے کہا، "راستے میں کہیں سے کنڈوم خرید لیجیے گا ندیم بھائی۔ "
یہ سن کے میرا لنڈ گرم ہونے لگا۔ میں نے بات ہلکے سے لیتے ہوئے پوچھا، "کیوں، آج رات میرے ساتھ سونا ہے کیا؟"
اور میں نے اس کا ہاتھ زور سے دبا دیا۔
وہ ایک قاتل مسکان کے ساتھ بولی، "آپ کے ساتھ بیڈ پہ جب میں رہوں گی، تب آپ سوئیں گے یا جاگیں گے؟"
میں نے اس کو گھورتے ہوئے کہا، "بہت گہری چیز ہو نوشین تم، ایکدم کتی چیز ہو بھئی۔ "
وہ بھی پورے موڈ میں تھی، بولی، "آپ اور آپ کے دوستوں کا کیا ہے سب، ورنہ میں جب آپ کے پاس آئی تب تک مجھے ہیئر ریموور تک استعمال کرنا نہیں آتا تھا۔ "
میں نے اس کے چوتڑوں پہ ایک چپت لگائی اور کہا، "ہاں، وہ تو اس دن تیری جھانٹیں دیکھ کر ہی پتا چل گیا تھا۔ تم فکر نہ کرو، بنا کنڈوم بھی میں جب کروں گا تو اپنا مال اندر نہیں باہر نکالوں گا۔ "
اور ہم دونوں گھر آ گئے۔
نوشین بولی آپ چلیے، میں تیار ہو کر آتی ہوں۔
پر میرے لیے اب رکنا مشکل تھا، بولا، "اس میں تیار کیا ہونا ہے، ننگا ہونا ہے بس۔ "
اور میں اپنے شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔ کچھ وقت میں ہی میں صرف اپنے فرینچی انڈرویئر میں تھا۔
نوشین پاس کھڑی دیکھ رہی تھی، بولی، "بہت بے چینی ہے کیا؟"
وہ مجھے چڑانے کے موڈ میں تھی۔ میں اس کی یہ ادا دیکھ مست ہو رہا تھا، پر اوپر سے بولا "اب جلدی سے آ اور پیار سے چدوا لے، ورنہ پٹخ کے چوت چود دوں گا۔ سالے یار لوگوں نے روز پوچھ پوچھ کر کان پکا دیے ہیں۔ "
نوشین اب سٹپٹائی اور پوچھا، "کیا آپ اپنے دوستوں سے میرے بارے میں بات کرتے ہیں؟"
اس کے چہرے سے فکر دکھی تو میں نے سچ کہہ دیا، "سلیم اور انور روز پوچھتے ہیں، اس دن کا تاش کا کھیل بھی میرے اور تمہارے بیچ یہی کروانے کے لیے ہی تو تھا۔ اصل میں، جب سے تم آئی ہو اس دن سے وہ دونوں تیرے بدن کے پیچھے پڑے ہیں۔ "
نوشین اب پر سکون ہوئی، "اچھا وہ دونوں، مجھے لگا کہ کوئی اور دوستوں کو بھی آپ نے بتایا ہے۔ کیا آپ آج رات کی بات بھی ان کو بتائیں گے؟"
میں نے دیکھا کہ اب سب ٹھیک ہے، سو سچ کہ دیا "ضرور، وہ ضرور پوچھیں گے، اور تب میں بتا دوں گا! "
اور میں نے نوشین کو پاس کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کے ہونٹوں کا رس پینے لگا۔
نوشین بھی مزے کر رہی تھی، ہم لوگ کوئی 5 منٹ تک صرف ہونٹ ہی چوستے رہے۔ نوشین کی سانس تھوڑی گہری ہو گئی تھی۔
میں نے نوشین کو کہا، "چلو اب بیڈ پر چلتے ہیں۔ " اس نے ایک بچے کی طرح مچلتے ہوئے کہا، "میں خود نہیں جاؤں گی، گودی میں لے چلو مجھے۔ میں تم سے چھوٹی ہوں یا نہیں۔ "
اسے بچوں کی طرح مچلتے دیکھ مجھے مزا آیا، بولا، "سالی، نخرا کر رہی ہے، چھوٹی ہے تو، ابھی دو منٹ میں جوانی چڑھ جائے گی! " اور اس کو میں نے گودی میں اٹھا لیا۔